ہمارا خوبصورت بیٹا چلا گیا ہے‘

ایک غیر معمولی جنیاتی بیماری میں مبتلا برطانوی بچے چارلی گارڈ کے والدین نے ان کی وفات کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ انھیں افسوس ہے کہ وہ چارلی کو بچا نہیں سکے۔
چارلی کے والدین کونے یٹیز اور کرس گارڈ نے انھیں گریٹ اورمنڈ سٹریٹ ہسپتال سے علاج کے لیے امریکہ منتقل کرنے کی اجازت کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی تھی۔
چارلی ایک ایسے غیر معمولی مرض (مائیٹو کونڈریل ڈی این اے ڈیپلیشن سنڈروم) میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے مریض کا دماغ آہستہ آہستہ متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہو جاتے ہیں۔
ہائی کورٹ نے چارلی کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
بچے کے والدین نے پیر کے روز قانونی چارہ جوئی سے اس وقت کنارہ کشی اختیار کر لی جب ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ اب کچھ کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔
جمعے کی شام کو اپنے بیان میں چارلی کی والدہ یٹس نے کہا ‘ہمارا خوبصورت بیٹا چلا گیا ہے۔ ہمیں تم پر بہت فخر ہے چارلی۔’
جمعرات کو انھوں نے کہا تھا کہ بیٹے کے ساتھ مزید وقت گزارنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس سے قبل عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ چارلی کو نرسنگ ہوم میں بھجوا دیا جائے گا اور اس کے کچھ دیر بعد ان کو زندہ رکھنے کے لیے فراہم کردہ سپورٹ کو ہٹا دیا جائے گا۔

والدین اپنے بیٹے کو امریکہ لے جانا چاہتے ہیں اور وہ وہاں اس کی نیوکلیوسائیڈ بائے پاس تھیرپی کروانا چاہتے ہیں تاہم گوش میں موجود ماہرین نے کہا تھا کہ چارلی کا یہ علاج تجرباتی بنیادوں پر ہو گا اور چارلی کے دماغ کو پہنچنے والا نقصان اور اس میں ہونے والی خرابی کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

چارلی کے والدین نے پانچ ماہ تک انھیں باہر لے جانے کی اجازت لینے کے لیے جنگ لڑی۔ اس مقدمے میں ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور یورپین کورٹ نے ڈاکٹرز کے اس موقف سے اتفاق کیا تھا کہ چارلی کو علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹرز بچے کے والدین کی اجازت کے بغیر اس کو دی جانے والی لائف سپورٹ نہیں ہٹا سکتے تھے اس لیے جب انھیں چھ ماہ تک چے کے علاج کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
امریکہ میں تو شاید کسی مریض کو تجرباتی بنیادوں پر دوائی دیا جانا مناسب خیال کیا جاتا ہے کہ شاید اس کی وجہ سے مستقبل میں دیگر افراد کو فائدہ ہو تاہم برطانیہ میں کسی مریض کو ڈاکٹرز ایسی دوا نہیں دیتے جس کے بارے میں انھیں معلوم ہو کہ یہ اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔

چارلی کے والدین نے ان کے لیے آن لائن جنگ بھی لڑی۔ فیس بک پر پٹیشن کے ذریعے چارلی کے لیے 13 لاکھ پاؤنڈ جمع ہوئے۔