مرد کے نطفوں کی تعداد میں کمی سے انسان کی معدومیت کا خطرہ‘

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا کے مردوں میں سپرم یعنی نطفوں کی تعداد میں کمی حالیہ رفتار سے جاری رہی تو انسان معدوم ہو سکتا ہے۔
محققین نے 200 الگ الگ تحقیقات سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ان خطوں میں مردوں کے نطفوں کی تعداد آئندہ 40 سال سے بھی کم عرصے میں موجودہ تعداد سے نصف رہ جائے گی۔
تاہم ہیومن رپروڈکشن اپ ڈیٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کو کچھ ماہرین قابل بھروسہ نہیں مانتے۔
مگر اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر ہاگائی لیون نے کہا ہے کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے، وہ اس حوالے سے بہت پریشان ہیں۔
ماہرین نے یہ اندازہ سنہ 1973 سے 2011 کے دوران ہونے والے 185 مطالعوں کے نتائج کو سامنے رکھ کر لگایا ہے۔
ڈاکٹر لیون جو کہ وبائی امراض کے ماہر ہیں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اگر یہی رحجاجن رہا تو انسان معدوم ہو جائیں گے۔

‘اگر ہمارا رہنے کا انداز، ماحول اور کیمیکلز کا استعمال یہ طریقے نہ بدلے تو میں بہت پریشان ہوں مستقبل کے حوالے سے’
‘ آخر کار اس سے شاید ہمیں مسائل ہوں، عمومی طور پر افزائش کے حوالے سے اور پھر شاید انسان معدوم ہو جائے۔’
جو سائنس دان اس تحقیق میں شامل نہیں تھے اس ریسرچ کی کوالٹی کی تعریف تو کرتے ہیں تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے یہ شاید ابھی اتنی پختہ نہیں ہے۔
یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر لیون یورپ، شمالی امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مردوں کے نطفوں کی کل تعداد میں 59 اعشاریہ تین فیصد کمی دیکھی۔
گذشتہ تحقیق میں موجود خامیاں
اس کے مقابلے میں جنوبی امریکہ، ایشیا اور افریقہ میں مردوں کے نطفوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی تاہم تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ ان خطوں میں بہت کم اس قسم کی ریسرچ کی گئی ہے۔
گذشتہ تحقیقات میں معاشی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں نطفوں میں تیزی سے کمی کے ایسے ہی اشارے ملتے ہیں لیکن اس سے انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ وہاں بہت زیادہ آبادی ایسی تھی جو نقائص کا شکار تھی۔ مثلاً وہاں ریسرچ میں شامل کیے جانے والے مردوں کی تعداد یا تو بہت کم تھی یا پھر ایسے مردوں کو لیا گیا جو پہلے ہی اپنے علاج کے لیے کلینک جاتے تھے۔

یہ بھی کہا گیا کہ اس قسم کی تحقیق کو سائنسی جرنل میں شائع ہونا چاہیے تھا۔
ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ پہلے پہل سپرم کی تعداد معلوم کرنے کے طریقے میں شاید انھیں اصل تعداد سے کئی زیادہ گن لیا جاتا تھا۔

شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن پاسے کا خیال ہے کہ نئی تحقیق کے نتائج کو بہت احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔
اس میں نطفوں کی تعداد میں بظاہر کمی کی وجہ کا کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ تاہم اس کو خوراک، سگریٹ نوشی، موٹاپے، کیڑے مار ادویات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز، پلاسٹک، ذہنی دباؤ اور بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے سے جوڑا گیا ہے۔