برطانیہ میں لوگوں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

برطانیہ میں ایسٹ لندن کے علاقے میں جمعرات کو پانچ افراد پر تیزاب پھینکا گیا اور ملک میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گذشتہ ماہ ہی ریشم خان اور ان کے کزن جمیل مختار پر گاڑی کے شیشے سے تیزاب پھینکا گیا جس کے باعث وہ بری طرح جھلس گئے۔
رواں سال اپریل میں لندن میں کلب جانے والے افراد پر تیزاب پھینکا گیا جس میں 20 افراد زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق تیزاب پھینکے جانے کے واقعات میں 2012 سے دو گنا اضافہ ہوا ہے اور ایسے واقعات زیادہ تر لندن ہی میں ہوئے ہیں۔
ملک میں تیزاب خریدنے پر روک ٹوک نہیں ہے لیکن اب اس کی فروخت کو سخت کرنے کے لیے آوازیں بڑھتی جا رہی ہیں۔
نیشنل پولیس چیفس کونسل کی اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل ریچل کیرٹن نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو بتایا کہ تیزاب پھینکنے کے واقعات میں یقیناً اضافہ ہوا ہے لیکن چاقو زنی کے مقابلے میں ایسے واقعات کی تعداد بہت کم ہے۔

مشرقی لندن میں واقع ایک ریسٹورنٹ کے مالک عمران خان پر اس وقت تیزاب پھینکا گیا جب وہ کھانا ڈیلیور کرنے جا رہے تھے۔
ان کو دو نوجوانوں نے روکا اور ان سے رقم اور کھانا مانگا اور ساتھ ہی گالیاں دیں۔ جب عمران اپنی گاڑی میں بیٹھے تو ان نوجوانوں نے ان کے چہرے پر تیزاب پھینکا۔
عمران کہتے ہیں کہ وہ سخت تکلیف میں تھا اور ان کو ڈر تھا کہ وہ کہیں اندھے نہ ہو جائیں۔
تاہم ان کو بچانے والا ایک اور دکاندار تھا جس نے ان کا چہرہ فوراً پانی سے صاف کیا۔ عمران کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد ان میں بہت تبدیلی آئی ہے اور اب وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور خاص طور پر اندھیرا ہونے کے بعد۔

میٹروپولیٹن پولیس کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر حملے گروہوں کی جنگ کے باعث ہوئے اور اسی لیے لندن میں مردوں پر حملے ہونے کے امکانات عورتوں سے زیادہ ہیں۔
مڈل سیکس یونیورسٹی میں گینگز کے ماہر ڈاکٹر سائمن ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ گینگ وارز یعنی گروہوں کی جنگ میں تیزاب پسندیدہ ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔
‘تیزاب پھینکنے سے غالب ہونے، طاقت اور کنٹرول میں ہونے کا تاثر دینا ہوتا ہے اور دیگر گروہوں پر اپنا خوف بٹھانا مقصود ہوتا ہے۔’
انھوں نے مزید کہا ‘گینگ ممبران کو معلوم ہے کہ کسی کو زخمی کرنے کے لیے تیزاب کے فوائد چاقو سے زیادہ ہیں کیونکہ اگر چاقو کے ساتھ پکڑے جاتے ہیں تو سزا زیادہ ہے۔’
تیزاب پھینکنے کی کوئی سزا نہیں ہے کیونکہ اس کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس حملے کا کوئی ڈی این اے نہیں ملتا اور چاقو کے مقابلے میں ایک پلاسٹک کی بوتل کو پھینکنا زیادہ مشکل ہے۔
ڈاکٹر ہارڈنگ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی روک تھام کے لیے حکومت کو اس کے خلاف تین سمت سے کارروائی کرنی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ تیزاب باآسانی دستیاب ہے، تیزاب پھینکنے کے جرم کو چاقو زنی کی سزا کے مقابلے میں لایا جائے اور لوگوں کو آگاہ کرنے کا پروگرام مرتب کیا جائے۔
‘گینگ ممبرز ضرور سوچتے ہیں جب ان کو معلوم ہوتا ہے کہ تیزاب پھینکنے سے کوئی شخص کبھی نہیں کام کر سکے گا یا اس کو 15 سے 20 سرجریاں درکار ہوں گی۔’
لندن میں قائم امدادی تنظیم ایسڈ سروائورز ٹرسٹ انٹرنیشنل کے جیف شاہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نیا طریقہ نہیں ہے اور برطانیہ میں وکٹورین زمانے میں بھی تیزاب سے حملے کیے جاتے تھے لیکن حالیہ حملوں کی تعداد کافی پریشان کن ہے۔

‘حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں فی کس تیزاب کے حملے دنیا میں بلند ترین ہے۔’
جیف شاہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تیزاب کی فروخت کو سخت کیا جائے۔