وزیر اعظم کے استعفے پر حزبِ اختلاف تقسیم

پاکستانی پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتیں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم سے استعفے کے مطالبے پر منقسم ہوگئی ہیں۔
استعفےکے مطالبے سے اختلاف کرنے والی جماعتوں کا کہنا ہے کہ چونکہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم سپریم کورٹ نے تشکیل دی ہے اس لیے عدالت عظمیٰ کو ہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
*

*

*

وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے سے اختلاف کرنے والی جماعتوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی شامل ہیں۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ اس وقت حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم کے استعفے کی مطالبے کی حمایت اس لیے نہیں کرسکتے کیونکہ یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لایا گیا تھا بہتر یہی ہوگا کہ سپریم کورٹ کو ہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے اور استعفے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کو انتظار کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ قومی وطن پارٹی صوبہ خیبر پختون خوا میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ حکومت کا حصہ ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کا موقف تھا کہ وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ قبل از وقت ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی سربراہی میں حزب مخالف کی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی زیادہ تر جماعتیں وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ نواز شریف ابھی مستعفی ہو جائیں تو شاید اُنھیں سپریم کورٹ میں خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی میڈیا سے اُلجھ پڑے کہ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ حزب مخالف کی جماعتوں میں وزیر اعظم کے استعفے پر اختلاف پایا جاتا ہے تاہم میڈیا کے نمائندوں نے پی ٹی آئی کے رہنما سے اتفاق نہیں کیا۔ اُنھوں نے دعوی کیا کہ پارلیمنٹ میں موجود حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے بابر اعوان کے مطالبے کو اُن کی ذاتی رائے قرار دیا اور کہا یہ پارٹی کا مطالبہ نہیں ہے۔ بابر اعوان نے وزیر اعظم کے استعفے کے ساتھ ساتھ قبل از وقت انتخابات کروانے کا کہا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2016 میں جب پاناما لیکس پر معاملہ پہلی بار منظر عام پر آیا تھا تو اس وقت بھی حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے پر متفق نہیں ہوئی تھیں۔