پاکستان فوج کی چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کا حملہ، دو اہلکار زخمی

پاکستان فوج کے مطابق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب شدت پسندوں نے الصبح حملہ کیا جسے سکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنا دیا۔ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں دو خود کش حملہ آور ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعے کی صبح افغانستان کی جانب سے آئے شدت پسندوں نے یہ حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے بازار زخہ خیل کے علاقے جڑوبی سے دو کلومیٹر دور فوج کی مشتہرہ چیک پوسٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام کر دیا گیا ہے۔
چوکی میں تعینات اہلکاروں نے ایک خود کش حملہ آور کو نشاندہی پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں دوسرا حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ اس جھڑپ میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان جماعت الاحرار کے ترجمان نے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی ان کے غازی حملوں کا حصہ ہے۔
قبائلی علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کے حملے کچھ دنوں کے وقفے کے بعد پیش آتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کا کام بھی جاری ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ باڑ لگنے کا کام گذشتہ ماہ سے شروع کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں یہ قبائلی علاقے باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسیوں کے ساتھ افغانستان کی سے والی سرحد پر لگائی جا رہی ہے۔
پاک افغان سرحد پر باڑ لگنے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی آمدو رفت پر کڑی نگرانی اور شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔