ایبٹ آباد: گدھے کے ساتھ باندھ کر گھسیٹنے سے بچہ ہلاک‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد کے نواحی علاقے میں ایک زمیندار نے مبینہ طور پر بطور سزا ایک آٹھ سالہ بچے کو گدھے کے ساتھ باندھ کر گدھے کو دوڑایا جس کی وجہ سے بچہ شدید زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہو گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق آٹھ سالہ مزمل بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک اس کا گدھا علاقے کے ایک زمیندار چوہدری مسکین کے کھیتوں میں گھس گیا جس کو واپس لانے کے لیے مقتول مزمل اپنے بڑے بھائی اور کزن کے ساتھ ملزم کے کھیتوں میں گئے۔

گدھے کو اپنے کھیتوں میں دیکھ کر زمیندار غصے میں آگیا اور ان بچوں کو پکڑنے کے لیے کھیتوں میں گیا۔ زمیندار کو آتا دیکھ مزمل کا بھائی اور اس کا کزن موقع سے بھاگ گئے لیکن وہ پکڑا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزم نے آٹھ سالہ مزمل کو اُس کے ہی گدھے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا اور گدھے کو پے درپے لاٹھیاں ماریں جس سے گدھا بھاگ نکلا۔ علاقہ مکینوں کے مطابق پتھریلی زمین ہونے کی وجہ سے مزمل کو شدید چوٹیں آئیں۔

بچے کے والد شیر افضل نے بی بی سی کی صبا ناز کو بتایا کہ ’وقوعے کے وقت میں علاقے میں موجود نہیں تھا جب میرے بیٹے کو گدھے کے پاؤں سے کھولا گیا تو اس نے آخری ہچکی لی اور دم توڑ دیا۔‘
اس واقعے کے بعد علاقے کے مکینوں نے کمسن بچے کی لاش کو سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا۔ ایبٹ آباد کی ضلعی انتظامیہ کو جب اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ موقعے پر پہنچ گئے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے افسران کی یقین دہانی پر مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کیا۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار محمد امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم چوہدری مسکین کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پر اُن کا دو روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ملزم نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ملزم کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔