خواتین کرکٹرز کو سہولتیں بے پناہ، کارکردگی مایوس کن

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے خواتین ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کرکٹ کے معیار کو بلند کرنے کے لیے نیا ٹیلنٹ سامنے لانا ہوگا۔

پاکستانی خواتین ٹیم کے سابق کوچ باسط علی کا کہنا ہے کہ خواتین کرکٹ گروپنگ کا شکار ہے۔
سابق خاتون کرکٹر کرن بلوچ کا کہنا ہے کہ آج خواتین کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ اور معاوضوں کی مد میں بہت کچھ مل رہا ہے لیکن کارکردگی صفر ہے۔
*

*

واضح رہے کہ انگلینڈ میں جاری خواتین کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کو اب تک کھیلے گئے تمام چھ میچز میں شکست ہوچکی ہے اور وہ سنیچر کو اپنا آخری میچ سری لنکا کے خلاف کھیلے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ورلڈ کپ کے لیے خواتین ٹیم کو خاصی تیاری کرائی گئی تھی لیکن ٹیم کی کارکردگی سے وہ بہت زیادہ مایوس ہوئے ہیں۔

شہریارخان نے کہا کہ صبیح اظہر کو آخری لمحات میں کوچ بنائے جانے کا فیصلہ کامیاب نہیں رہا اور انہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ کھلاڑی بھی ان سے خوش نہیں۔
شہریارخان نے کہا کہ اگر پاکستان میں خواتین کرکٹ کا معیار بلند کرنا ہے تو اس کے لیے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اگر خواتین کرکٹ میں کسی کی اجارہ داری ہے تو اسے ضرور ختم کریں گے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ وہ چاہیں گے کہ نیا ٹیلنٹ سامنے آئے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب بلوچستان اور گلگت جیسی جگہوں سے بھی کھلاڑی ٹیم میں آئی ہیں جس سے نوجوان اور نئی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی لیکن معاشرتی مسائل بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے۔

پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ باسط علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ گروپنگ ہے یہاں پسند ناپسند بہت ہے۔ چند ڈپارٹمنٹس کی جانب سے خواتین ٹیمیں بنانے کے بعد سیاست شروع ہوگئی ہے جس کا اندازہ انہیں نیوزی لینڈ کے دورے میں ہوا اور انھوں نے کھلاڑیوں پر واضح کردیا تھا کہ یہ گروپنگ نہیں ہوگی جس نے یہ کرنی ہے وہ وطن واپس چلی جائے۔

باسط علی نے کہا کہ کھلاڑیوں کی توجہ میچ سے زیادہ میچ کے معاوضے پر ہوتی ہے کہ پنتالیس ہزار روپے تو ملنے ہی ملنے ہیں جب یہ سوچ ہوگی تو ٹیم کیسے جیتے گی۔ سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں ماہانہ ایک لاکھ روپے کا معاوضہ اس کے علاوہ ہے۔

باسط علی نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کا دائرہ صرف پچیس تیس کھلاڑیوں تک محدود ہے۔ سینیئر کھلاڑیوں پر کارکردگی میں بہتری لانے کا دباؤ ڈالنے کے لیے نئی کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا ہوگا۔
باسط علی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کوچ محتشم رشید کا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ بہت اچھے کوچ ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ اپنے فیصلے سینئر کھلاڑیوں سے نہیں منوا سکے جس کی وجہ سے سینیئر کھلاڑیوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔

محتشم رشید کو کوچ کے عہدے سے ہٹائے جانے کا فیصلہ غلط تھا۔
باسط علی نے سوال کیا کہ ریجنل کوچز آخر کیا کررہے ہیں؟ وہ اسکولوں اور کالجوں میں جائیں اور نیا ٹیلنٹ تلاش کریں۔
پاکستان کی پہلی خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی کرن بلوچ کا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی شروع کی گئی خواتین کرکٹ آج بھی جاری ہے۔ انہیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ آج کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل ہیں لیکن کارکردگی مایوس کن ہے حالانکہ کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔

کرن بلوچ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آج خواتین کرکٹ کو اسی مقام پر لا کھڑا کردیا ہے جہاں انیس سو چھیانوے میں یہ کرکٹ اس ملک میں شروع ہوئی تھی۔ پسند ناپسند کی پالیسی کو ختم کیے بغیر پاکستان میں خواتین کرکٹ آگے نہیں بڑھ سکتی۔