انڈيا: نئے کرکٹ کوچ کی تقرری کے بعد بھی تنازع جاری

انڈین کرکٹ بورڈ کے حکام نے روی شاستری کو ٹیم کا نیا کوچ مقرر کیا ہے لیکن اس اعلان کے فوراً بعد ہی مشاورتی کمیٹی اور کوچ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
روی شاستری کا موقف ہے کہ انھیں اس بات کا اختیار ہونا چاہیے تھا کہ وہ اپنی پسند کے معاون بولنگ اور بیٹنگ کوچ رکھ سکیں لیکن یہ کام بھی مشاورتی کمیٹی نے کیا اس لیے وہ ناراض ہیں۔
انھوں نے ایک انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بطور معاون کوچ ظہیر خان اور راہل دراوڈ کو ان پر تھوپا گيا ہے۔
بی سی سی آئی کی ‘کرکٹ ایڈوائزری کمیٹی’ سابق کھلاڑیوں سچن تندولکر، سورو گنگولی اور وی وی ایس لکشمن پر مشتمل ہے جس نے روی شاستری کو 2019 کے ورلڈ کپ تک لیے کوچ مقرر کیا ہے۔
سی اے سی نے اس کے ساتھ ہی سابق کرکٹر راہول دراوڈ کو بیٹنگ کے معاملے میں اور ظہیر خان کو بولنگ کے معاملے میں مشیر مقرر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مشاورتی کمیٹی کے ارکان روی شاستری کے بیان سے خوش نہیں ہیں اور انھوں نے کرکٹ انتظامیہ کو کو ایک خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے۔
اس خط میں تین رکنی کمیٹی نے لکھا ہے کہ انھوں نے راہل دراوڈ اور ظہیر خان کو روی شاستری پر مسلط نہیں کیا اور اس بارے میں روی شاستری سے صلاح و مشورے کے بعد ہی فیصلہ کیا گیا تھا۔
ایک نجی ٹی وی چینل نے سی اے سی کے خط کا مواد نشر بھی کیا ہے۔ اس کے مطابق خط میں لکھا ہے: ‘ہم لوگوں نے ظہیر خان اور راہل دراوڈ کی تقرری کے تعلق سے بات چيت کی تھی اور ان کے نام پر روی شاستری نے اتفاق بھی کیا تھا۔’

ظہیر خان اور راہل دراوڈ کے نام سامنے آنے کے بعد سے ہی میڈیا میں ایسی خبریں آنے لگی تھیں کہ روی شاستری نے اپنی پسند کے معاون عملے کا مطالبہ کیا ہے۔
اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق روی شاستری نے سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن سے ملاقات کر کے ظہیر خان سے متعلق اپنے تحفظات کے سلسلے میں بات کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق روی شاستری ظہیر خان کی جگہ بھارت ارون کو گیند بازی کا کوچ بنانا چاہتے ہیں۔