صدر ٹرمپ کی سفارش پر افغان لڑکیوں کو ویزا جاری

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق روبوٹس سازی کے عالمی مقابلے میں شرکت کرنے والی نوجوان لڑکیوں کے گروہ کو امریکہ کا ویزا دے دیا گیا ہے۔
ان لڑکیوں کے جانب سے ویزے کے لیے ابتدائی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا تاہم ان خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اب کی بار ان کے ویزے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکام سے سفارش کی تھی۔
اس سے پہلے گیمبیا کے طلبا کو بھی ویزا جاری کردیا گیا۔ افغانستان کی ٹیم کے علاوہ ان کا بھی ویزا مسترد کیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ مسلمان ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاہم ان ممالک میں افغانستان شامل نہیں تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پابندیوں کے شکار ممالک میں شامل ایران، سوڈان اور شام کی ٹیمیں پہلے ہی امریکہ جانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

خبر رساں ادادے اے پی کی مطابق ہوم لینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ڈیوڈ لاپن کا کہنا تھا افغان لڑکیوں کے ویزے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی درخواست کے بعد منظور کیے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز کے مطابق یہ درخواست صدر ٹرپ کی جانب سے مداخلت کے بعد کی گئی تھی۔
گلوبل فرسٹ نامی ادارے کے جانب سے منعقد کروائے گئے روبوٹک گیمز کے اس مقابلے میں 164 ممالک شرکت کریں گے۔
گلوبل فرسٹ کے صدر جو سیسٹاک کا ایک بیان میں کہنا تھا ’میں نہ صرف افعانستان بلکہ گیمبین کی ٹیم کو بھی ویزے جاری کرنے اور مقابلوں میں ان کی شرکت یقینی بنانے پر امریکی حکومت اور سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

امریکی صدر کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ نے بھی اس خبر کے بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ واشنگٹن میں افغان ٹیم کی منتظر رہیں گی۔
ہرات میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے افغان ٹیم کی رکن 14 سالہ فاطمہ غدریان نے کہا تھا کہ ’ہم کوئئ دہشت گرد گروہ نہیں ہیں جو امریکہ جا کر وہاں کے لوگوں کو خوفزدہ کر دیں گے۔‘
’ہم صرف امریکیوں کو افغان لڑکیوں کا ہنر اور طاقت دکھانا چاہتے ہیں۔‘