کیلیبری فونٹ کا صفحہ 18 جولائی تک ناقابل تدوین

وکی پیڈیا نے ‘کیلیبری’ فونٹ کے صفحے کو ’18 جولائی تک یا پھر تدوین کا معاملہ حل ہونے تک‘ ناقابل تدوین بنا دیا ہے۔
وکی پیڈیا پر ‘کیلیبری’ فونٹ کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں، اطلاعات کے مطابق جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کئی بار ان کی تدوین کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں وکی پیڈیا نے اس صفحے کو ہی کچھ عرصے کے لیے ناقابلِ تدوین بنا دیا ہے۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں ایک برطانوی فورینزک ماہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز کیلیبری فونٹ میں تحریر کی گئی ہے جو کہ عام استعمال کے لیے 2007 تک دستیاب ہی نہیں تھا۔
اس بنیاد پر تحقیقاتی ٹیم نے اس دستاویز کو ‘جعلی’ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے جمع کروا کر مریم نواز شریف ایک ‘جرم’ کی مرتکب ہوئی ہیں۔’
وکی پیڈیا کے مطابق یہ فونٹ 2004 میں ڈیزائن کیا گیا تھا لیکن عام استعمال کے لیے 30 جنوری 2007 کو دستیاب ہوا تھا۔
جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد مبینہ طور پر وکی پیڈیا پر یہ معلومات لکھنے کی کوشش کی گئی تھیں کہ ‘کیلیبری’ فونٹ 2004 سے دستیاب ہے۔
برطانوی اخبار گارڈیئن کے مطابق وکی پیڈیا کے اس اقدام پر اس کی تعریف کی جا رہی ہے کہ اس سے کمپنی کی دیانتداری ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان میں پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین #FontGate کے ہیش ٹیگ کے تحت اس بحث میں مصروف نظر آئے کہ آیا مریم نواز شریف نے تحقیقات کے دوران جو دستاویزات جمع کروائیں وہ جعلی تھیں کیونکہ وہ جس فونٹ میں ٹائپ کی گئی تھیں وہ مبینہ طور پر دستاویزات کی تیاری کے وقت مستعمل ہی نہیں تھا۔

مریم نواز شریف اور وزیراعظم کے قانونی مشیر بیرسٹر ظفر اللہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے جو سوال رکھے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ معلوم کیا جائے کہ لندن میں پارک لین کے چار فلیٹس کا ‘اصل’ مالک کون ہے۔
افشا کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ان کی اصل مالک وزیراعظم پاکستان نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف ہیں جنھیں اب اپنے والد کا سیاسی جانشین بھی سمجھا جا رہا ہے۔
مریم کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ صرف ان فلیٹوں کی مالک کمپنیوں کی ٹرسٹی ہیں اور ان کے بھائی ان کے اصل مالک ہیں۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر انھوں نے جو دستاویز پیش کی اسے فروری 2006 میں تیار کیا گیا تھا۔

کچھ حلقے اس دعوے کو چیلینج کر رہے کہ کیلیبری فونٹ 2007 سے قبل دستیاب نہیں تھا۔ وہ اس معاملے میں ‘بیٹا’ یا تجرباتی ورژن کا ذکر کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ جعلی دستاویزات کے کئی مقدمات میں گواہی دینے والے فونٹ ٹائپو گرافی کے ماہر ٹامس فینی کے ایک بیان کو بطور ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

فینی نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں ونڈوز 2007 کا وہ تجرباتی ورژن جس میں کیلیبری شامل کیا گیا تھا تکنیکی طور پر عوام کو 2004 سے دستیاب تھا، یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ کوئی عام شخص اسے ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کر رہا ہو۔

یہ واضح نہیں کہ کیلیبری 2007 سے قبل مائیکروسافٹ آفس کی کسی تجرباتی ریلیز کا حصہ تھا یا نہیں لیکن فینی کا یہی کہنا ہے کہ عموماً صارفین یا کمپیوٹر سافٹ ویئر فروخت کرنے والی دکانیں عام فروخت کے لیے پیش کیے جانے سے قبل کسی سافٹ ویئر کا تجرباتی ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال نہیں کرتے۔

کیلیبری فونٹ کے خالق لوکاس ڈی گروٹ بھی اس خیال سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں جعلسازی کے درجن بھر مقدمات میں ان سے یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ فونٹ کب ریلیز کیا گیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لوکاس کا کہنا ہے کہ ‘بیٹا’ ورژن عموماً ٹیکنالوجی کی ماہرین ہی استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ پروگرام اس وقت تک تیاری کے حتمی مراحل میں ہوتا ہے۔
تاہم یہ دعویٰ کہ کیلیبری فونٹ میں ٹائپ کیے جانے سے ہی مریم نواز کی دستاویز جعلی ثابت ہوتی ہے، عدالت میں ان کی جانب سے چیلینج کیا جا سکتا ہے۔